احسن اقبال پر حملہ: انتخابات ملتوی کرنے کی سازش؟

by

تحریر: فضل الہی

دہشت گردی ابھی ختم نہیں ہوئی اور اس بات کا واضح ثبوت ہے وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ۔ احسن اقبال پر فائرنگ افسوسناک اور شرمناک واقعہ ہے۔ پہلے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف پر جوتا پھینکا گیا پھر سابق وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف پر سیاہی پھینکی گئی مگر وزیر داخلہ احسن اقبال پر تو گولیاں چلا دی گئیں۔ اس طرح کے بزدلانہ حملے پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں کیونکہ عالمی سطح پر یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی محفوظ نہیں۔ سزا اور جزا صرف اور صرف ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کوئی بھی شخص کسی بھی صورت میں کسی دوسرے شخص کو نقصان پہنچانے کا حق نہیں رکھتا۔ وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملے کے حق میں کسی بھی رو سے کوئی بھی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کھلی دہشتگردی ہے اور احسن اقبال پر فائرنگ کرنے والے دہشتگرد سے وہی برتاؤ کرنا چاہئے جو کسی بھی دوسرے دہشتگرد کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں کوئی بھی سیاسی جماعت تشدد کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی اس لئے تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ ‏

وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملے کی تحقیقات کے لئے ڈی آئی جی وقاص نذیر کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی گئی جس میں ایس پی سی ٹی ڈی گوجرانوالہ ریجن فیصل گلزار اعوان، ایس ایس پی گوجرانوالہ خالد بشیر چیمہ اور آئی بی اور آئی ایس آئی کا ایک ایک نمائندہ بھی شامل‏ کیا گیا مگر ایک ہی گھنٹے بعد دوسری جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی جس کا سربراہ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی رائے محمد طاہر کو مقرر کیا گیا۔ اس سے پہلے بھی دہشتگردی کے کئی واقعات رونما ہوئے اور درجنوں جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیمز (جے آئی ٹیز) بنیں مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ آج تک منظر عام پر نہیں آسکی۔ امید ہے احسن اقبال پر حملے کی تحقیقات کے لئے بننے والی جے آئی ٹی جلد از جلد اپنی رپورٹ مرتب کرے گی اور گرفتار ملزم عابد حسین کے ساتھی ملزمان، سہولت کاروں اور تمام ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

جس طرح سیاست کے لئے امن ہونا بنیادی شرط ہے اسی طرح الیکشن مہم کا پرامن ہونا بھی بے حد ضروری ہے مگر یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ سیاستدان ہمیشہ دہشتگردوں کے نشانے پر رہے ہیں اور یہ سلسلہ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید پر حملے سے شروع ہوا تھا اور اس مرتبہ دہشتگردوں کا نشانہ وزیر داخلہ احسن اقبال بنے ہیں۔ 2013 کے انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی دہشتگردوں کے نشانے پر تھی اور اس وقت دہشتگردوں کی جانب سے مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کو کھل کر سیاست کرنے کا موقع دیا گیا کیونکہ ایک طرف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان یہ کہتے تھے کہ طالبان ہمارے بھائی ہیں اور وزیراعلی خیبر پختونخواہ پرویز طالبان کو دفاتر کھولنے کی پیشکش کر رہے تھے تو دوسری طرف وزیراعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف کہتے تھے کہ ہمارا (نواز لیگ کا) اور طالبان کا نظریہ ایک ہے۔ ‏احسن اقبال پر حملے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کی آنکھیں کھل جانی چاہئے۔ نواز لیگ کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ دہشتگردوں کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا۔ پر تشدد حملوں کا سلسلہ نہ رکا تو ایک کے بعد دوسرے اور پھر تیسرے کی باری آسکتی ہے کیونکہ دہشتگرد کا کام دہشت پھیلانا ہے اور دہشتگرد کسی کا بھائی نہیں ہوتا اور یہ بات طالبان کو بھائی کہنے والے عمران خان کو بھی وقت سے پہلے سمجھ لینی چاہئے۔ الیکشن وقت پر ہونے چاہئیں اور الیکشن میں تمام سیاسی جماعتوں کو مہم کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں تاکہ جمہوریت کی ٹرین پٹری سے نا اترے۔


Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *